بهشت ارغوان | حضرت فاطمه زهرا سلام الله علیها

بهشت ارغوان | حضرت فاطمه زهرا سلام الله علیها

+ کپی کردن از مطالب بهشت ارغوان آزاد است. ان شاء الله لبخند حضرت زهرا نصیب همگیمون...

ختم صلوات

ختم صلوات به نیت سلامتی و تعجیل در ظهور امام زمان (عج الله تعالی فرجه الشریف)

طبقه بندی موضوعی

در تا شهدا بخوانید

معصومۂ عالم کی زندگی کے آخری ایام میں، ام المؤمنین جناب ام سلمہ ان کی ملاقات کو آتی ہیں، احوال پرسی کرتی ہیں اور ام المصائب حضرت زہرا(س) جواب میں فرماتی ہیں : میرا حال یہ ہے کہ بابا پیغمبر اسلام(ص) کے فراق نے غم و اندوہ اور ان کے وصی پر کئے جانے والے مظالم نے الم و افسوس میں گھیر رکھا ہے، خدا کی قسم لوگوں نے ان کی حرمت کو پارہ پارہ کردیا ہے اور ان کے مقام امامت و رہبری کو کتاب خدا کی تنزیل اور نبی خدا کے ذریعے کی گئی تاویل کے خلاف ان سے چھین لیا ہے ۔ خدا کی قسم اگر خلافت کی زمام جس طرح کہ خدا کے رسول(ص) نے ان کے ہاتھوں میں دی تھی، اگر ان کے ہاتھ میں رہنے دیتے اور ان کی اطاعت و پشتپناہی کرتے تو وہ ان کی بڑی ہی نرم روی سے راہ ہدایت کی طرف رہنمائی کرتے اور فلاح و نجات کے صاف و شفاف شیریں چشمے سے ان کو سیراب کردیتے ۔

نبی اکرم(ص) کے بعد حضرت علی(ع) کو ملت اسلامیہ کی عام قیادت سے محروم کردینا اور اسلامی معاشرہ سے اس کی مادی و معنوی رفاہ و فلاح چھین لینا کتنا بڑا تاریخی ظلم ہے جو پوری عالم بشریت پر کیا گیا ہے ۔ لیکن اس کو، اس وقت صرف حضرت زہرا(س) نے سمجھا اور محسوس کیا ۔ اور جب ایک سننے والا ملا تو ام المؤمنین ام سلمہ کے سامنے اس کا اعلان کردیا۔ جی ہاں ! صرف وہ سمجھیں تھیں کہ کس ہدایت و بینہ اور ترقی و کمال کی ظرفیت سے معاشرہ کو محروم کردیا گیا ہے ۔ علی ابن ابی طالب(ع) کا سراسر وجود حق تھا اور ان سے صراط مستقیم کی شعاعیں پھوٹتی تھیں ایک چشمہ حکمت تھا جو ہر قسم کی آمیزش اور نجاست سے پاک تھا اور رہروان حق کی تشنگی دور کرسکتا تھا کیونکہ وہ جو کہتے تھے سب سے پھلے خود اس پر عمل کرتے تھے، دراصل، رسول اسلام(ص) اپنے بعد کے تمام حالات سے باخبر تھے لہذا انہوں نے خدا کے حکم سے فاتح خیبر حضرت علی(ع) کے لئے حضرت زہرا کی مانند ہمسر نہیں بلکہ ایک محکم و استوار پشتپناہ منتخب کیا تھا ۔ اسی لئے امیرالمؤمنین(ع) کی ولایت کے حامیوں میں، درخشاں ترین ذات، حضرت زہرا(ع)کی ذات والا صفات تھی، جن کے مقام و منزلت کے اظہار و اعلان میں رسول اسلام(ص) نے خاص اہتمام سے کام لیا اور حق و باطل کی شناخت کے لئے حضرت زہرا(س) کو معیار و میزان قرار دے دیا ۔ اگرچہ علی ابن ابی طالب(ع) کی ولایت و امامت کے مخالفین کے مقابلے میں، حضرت علی(ع) کے ساتھ تن تنہا حضرت زہرا کی معیت ان کی حقانیت کے ثبوت کے لئے کافی ہے ۔ لیکن دختر رسول(ص) نے اس پر قناعت نہیں کی۔ دختر رسول(ص) نے اپنے پورے وجود اور وسائل و اختیارات کے ساتھ اس  ناانصافی کے خلاف علم جہاد بلند کردیا ۔ اس سلسلے میں، علی و فاطمہ کی مشکل یہ تھی کہ ابھی مسلمانوں کے اندر وہ بلوغ فکری پیدا نہیں ہوئی تھی کہ وہ مسئلہ ولایت کی اہمیت کو صحیح طور پر سمجھ سکیں اور نہ ہی دشمنان ولایت کی نیتوں کی بھرپور شناخت ممکن ہوسکی تھی ۔ بہت سے لوگوں کے لئے یہ بات قابل یقین نہیں تھی کہ جو افراد کل تک ہرقدم پر نبی(ص) کے ساتھ تھے انہیں اس قدر جلد مقام و منصب کی خواہش اسلام اور پیغمبر اسلام(ص)سے اس طرح دور کر دے گی !!

نظرات  (۰)

هیچ نظری هنوز ثبت نشده است

ارسال نظر

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی

خـــانه | درباره مــــا | سرآغاز | لـــوگوهای ما | تمـــاس با من

خواهشمندیم در صورت داشتن وب سایت یا وبلاگ به وب سایت "بهشت ارغوان" قربة الی الله لینک دهید.

کپی کردن از مطالب بهشت ارغوان آزاد است. ان شاء الله لبخند حضرت زهرا نصیب همگیمون

مـــــــــــادر خیلی دوستت دارم